18 ستمبر 2026 - 15:30
یمن: صعدہ میں لاکھوں افراد کا مکہ مکرمہ کے دفاع اور یمنی فوج کی حمایت میں مظاہرہ

یمن کے صوبہ صعدہ میں لاکھوں افراد نے مکہ مکرمہ اور اسلامی مقدسات کے دفاع اور یمنی مسلح افواج کی حمایت میں بڑے عوامی مظاہرے میں شرکت کی اور مکہ کو نشانہ بنانے سے متعلق سعودی دعوے کو جھوٹ اور بہتان قرار دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صوبہ صعدہ کے سیکڑوں ہزاروں باشندوں اور عمائدین نے ایک بڑے عوامی مظاہرے میں شرکت کی۔ یہ مظاہرہ ’’مسلح افواج کی حمایت، محاصرے کے جواب میں محاصرہ اور مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کرنے‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ مظاہرین نے آزادی کے حق میں نعرے لگائے، یمن کے پرچم اور قرآن مجید بلند کیے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صعدہ کے گورنر محمد عوض نے کہا کہ سعودی پٹرول ڈالر سے مرعوب اقوام کو سعودیوں کی ان باتوں کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے جنہیں انہوں نے بے بنیاد دعوے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یمنی عوام انصار اللہ، رسول اللہ اور قرآن و مقدسات کے انصار ہیں اور انہوں نے مقدسات کی خاطر اپنی جانیں اور اپنے عظیم قائدین قربان کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمنی عوام القدس کی راہ، محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ، قرآن کی راہ اور ان مستضعفین کی راہ پر گامزن ہیں جن کی حمایت کے لیے وہ اپنا خون پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امت اپنے فلسطینی مسئلے، مقدسات اور ان تمام مسائل سے دستبردار نہیں ہو سکتی جو عرب و مسلم امت کو متحد کرتے ہیں۔

محمد عوض نے کہا کہ یمنی عوام ان اقوام میں سرفہرست ہیں، ثابت قدم اور مضبوط ہیں اور درپیش چیلنجز کے باوجود کسی بھی قیمت پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے عظیم کامیابیوں پر اللہ کا شکر ادا کیا اور مختلف محاذوں پر موجود مجاہدین اور صوبہ صعدہ کے عوام کی جانب سے ’’قافلہ فتح‘‘ کے نام سے محاذوں پر موجود مجاہدین کے لیے پیش کیے گئے عوامی قافلے کو سراہا۔

اس موقع پر مظاہرین نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے کے حوالے سے آل سعود کو پیغام دیتے ہوئے کہا: ’’ہم کعبہ کے محافظ ہیں اور آپ یہ جانتے ہیں، پھر جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ بہتان کیوں باندھتے ہیں؟‘‘ مظاہرین نے کہا کہ میڈیا میں جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا جاری رکھنے سے جنگ کے میدانوں میں ناکامی اور بے بسی تبدیل نہیں ہو سکتی۔

صعدہ کے عوام نے سعودی عرب کو مزید کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے مغربی ساحل اور الجوف میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے سعودی عرب سے انخلاء اور واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے یمنی عوام کے خلاف جارحیت جاری رکھنے سے خبردار کیا اور کہا کہ سعودی فوجی اڈے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

مظاہرین نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کا یہ اجتماع فلسطین اور مقدسات، بالخصوص مکہ مکرمہ کی حمایت میں ہے اور اس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ ایسی قوم ہیں جو اپنی مقدسات کی ہمیشہ اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک حفاظت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ ایسی یمنی قوم کا حصہ ہیں جو مقدسات کی حفاظت کرتی ہے۔

مظاہرے کے اختتامی اعلامیے میں کہا گیا کہ یمنی عوام ’’عظیم بہتان‘‘ کو مسترد کرتے ہیں اور گزشتہ 12 برس سے جاری جارحیت اور محاصرے کے مقابلے میں اپنے جائز مؤقف پر قائم ہیں۔ اعلامیے میں اللہ کی راہ میں جہاد کے راستے سے پیچھے نہ ہٹنے اور آزادی، خودمختاری اور عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اعلامیے میں یمنی مسلح افواج کو ان کی عظیم اور تاریخی کامیابیوں پر مبارکباد دی گئی، شہداء کے لیے رحمت کی دعا کی گئی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی جبکہ محاذوں پر موجود مجاہدین کے لیے ثابت قدمی اور کامیابی کی دعا کی گئی۔

اعلامیے میں سعودی دشمن کے ساتھ محاذ آرائی جاری رکھنے اور ’’محاصرے کے جواب میں محاصرہ، کشیدگی کے جواب میں کشیدگی‘‘ کی پالیسی کے تحت یمنی مسلح افواج کی حمایت جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ اس میں سعودی عرب کی فوجی تیاریوں اور اجتماعات کو نشانہ بنانے اور محاصرہ ختم ہونے تک کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یمنی عوام اپنے مؤقف کی صداقت، اپنے حقوق کی بحالی اور یمن سے جارحیت و ظلم کی تمام شکلوں کے خاتمے پر پُراعتماد ہیں، خواہ اس کے لیے کتنی ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔

اعلامیے میں مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے خطرناک الزام، بڑا جھوٹ اور عظیم بہتان قرار دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ الزام یمنی عوام کے خلاف جرم، ان کی دانستہ بدنامی اور اسلام سے ان کی وابستگی کی عزت و تقدس پر حملہ ہے۔ اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ’’ایمان یمانی ہے اور حکمت بھی یمانی ہے‘‘ کا حوالہ دیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام یمنی عوام کی جانیں، روحیں اور مال مکہ مکرمہ اور اسلامی مقدسات پر قربان ہیں۔ اس میں امت کے مسائل کے حوالے سے اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جن میں مقدسات کا دفاع، فلسطین کی حمایت اور تمام عادلانہ مسائل، بالخصوص جہاد و مزاحمت کی حمایت شامل ہے۔

اعلامیے میں حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور مختلف اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقدسات، امت کی عزت اور وقار کے تحفظ کے لیے حقیقی اور باوقار مؤقف اختیار کریں تاکہ سچوں اور جھوٹوں میں فرق واضح ہو سکے۔

مظاہرے کا اختتام شہداء کے لیے رحمت، زخمیوں کی شفا، قیدیوں کی رہائی اور فتح و نصرت کی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha